31- بشر بن عمر الکندی
آپ حضر موت کے رہنے والے تھے اور قبیلہ کندہ کے فرد تھے آپ بھی جنگ اولین میں شہید ہوئے ۔
32- عبداللہ بن عروہ الغفاری
آپ کربلا میں امام علیہ السلام سے آ کر ملے اور جنگ مغلوبہ میں شہادت پائی ۔
33- بریر بن خضیر الہمدانی
آپ قبیلہ بنو ہمدان کی شاخ بنو مشرق کی عظیم شخصیت تھے ۔ انصار امیر المومنین علیہ السلام تھے اور مکہ سے امام علیہ السلام کے ہم رکاب ہوئے ۔ شب عاشور پانی کی جدوجہد میں جو کارنامہ سرانجام دیا وہ تاریخ میں سونے کے حروف سے لکھنے کے قابل ہے. یوم عاشور سب سے پہلا گریہ جو امام علیہ السلام نے فرمایا وہ آپ ہی کے جسد خاکی پر کیا تھا "إن بریر من عباد اللہ الصالحین " ہاے بریر ہم سے جدا ہو گئے جو خدا کے بہترین بندوں میں سے ایک تھے.
34- وہب بن عبداللہ الکلبی
یہ حسین ی بہادر نصرانی (عیسائی) تھا اور کسی سفر میں اپنی بیوی اور والدہ کے ہمراہ جا رہا تھا امام علیہ السلام کی نُصرت کے لیے رکا اور اسلام قبول کیا ۔ کتاب ذکر العباس میں تفصیل سے موجود ہے ۔ آپ نے 24 پیادے قتل کیے اور آپ کی شہادت کے بعد آپ کی زوجہ آپ کی لاش پر گئیں اور اسی دوران شمر کے حکم پر اس کے غلام رُستم نے آپ کو بھی شہید کر دیا ۔ بعض مورخین نے آپ کی زوجہ کو پہلی خاتون شہید لکھا ہے ۔ روایت ہے کے آپ کا سر کاٹ کے خیام حسینی کی طرف پھینکا گیا تو آپ کی والدہ نے واپس میدان کی طرف پھینک دیا اور فرمایا " ہم راہ خدا میں جو چیز دے دیتے ہیں اسے واپس نہیں لیتے ۔"
روایت ہے کہ آپ کی والدہ نے بھی 2 دشمنوں کو واصل جہنم کیا تھا ۔ دمعہ ساکبہ ص 331 ، طوفان بکا ص13.
35- ادہم بن امیة العبدی
آپ بصرہ کے رہنے والے تھے اور کوفہ میں سکونت اختیار کی تھی ۔ ماریہ کے مکان پر ہونے والے تمام اجلاسوں میں شریک ہوئے ۔ ایک دن یزید بن ثبیط نے کہا کے میں امام علیہ السلام کی امداد کے لیے مکہ جا رہا ہوں ۔ آپ نے کہا کے میں بھی ساتھ چلوں گا ۔ آپ مکہ پہنچے اور یوم عاشور اپنی جان عزیز امام علیہ السلام پر قربان کر کے امر ہو گئے ۔
36- امیہ بن سعد الطائی
آپ کوفے میں رہتے تھے جب آپ کو علم ہوا کے امام حسین علیہ السلام کربلا پہنچ گئے ہیں تو آپ فی الفور کوفے سے نکل کر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر امام علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہو گئےاور یوم عاشور کمال جذبہ قربانی کے پیش نظر امام علیہ السلام اور اسلام پر قربان ہو گئے ۔
37- سعد بن حنظلہ التمیمی
آپ کے بیشتر حالات تاریخ میں موجود نہیں ہیں مگر ایک جملہ موجود ہے کہ آپ نہایت جگری سے لڑے اور بہت سے دشمنوں کو فنا كر کے گھاٹ اتار کر میدان کارزار میں جام شہادت نوش کیا۔
38- عمیر ابن عبداللہ المذحجی
جناب سعد ابن حنظلہ کی شہادت کے بعد آپ میدان میں آئے اور کمال شجاعت سے لڑ کر بالاخر مُسلم صبانی اور عبداللہ بجلی نے آپ کو شہید کیا ۔
39- مسلم بن عوسجہ الاسدی
آپ کو صحابی رسول ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ 24 ہجری میں فتح آذربائیجان میں حذیفہ یمان کے ہمراہ جو کارنامے سرانجام دئیے تھے وہ تاریخ میں موجود ہیں ۔
9 محرم کی شام کو امام علیہ السلام کا وہ خطبہ جس میں امام علیہ السلام نے جب انصار اور احباب سے واپس جانے کو کہا تھا تو رُفقاء کی جانب سے حضرت عباس علمدار علیہ السلام اور انصار کی جانب سے جناب مسلم بن عوسجہ نے کہا تھا: " کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ اگر ہم ساری عمر مارے جائیں اور جلا بھی دئے جائیں تب بھی آپ کی معرفت اور ساتھ نہیں چھوڑیں گے ۔ آپ علیہ السلام کی خدمت میں شہادت ، شہادتِ عظیم ہے۔"
شب عاشور جب خندق کے گرد آگ جلانے پر لشکر کفار سے لڑائی ہوئی تھی تو آپ نے ہی اس کا منہ توڑ جواب دیا تھا۔
جب آپ مسلم بن عبداللہ اور عبداللہ بن خشکارہ بلخی کے ہاتھوں شہید ہوئے تو شبت ابن ربعی اگر چہ دشمن تھا بولا " افسوس تم ایسے شخص کے مرنے پر خوشی منا رہے ہو جس کے اسلام پر احسانات ہیں ۔ جس نے جنگ آذربائیجان میں مُشرکوں کی کمر توڑ دی تھی "
آپ کی شہادت کے بعد آپ کے فرزند میدان میں آئے اور 30 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے ۔
40- ہلال بن نافع البجلی
آپ کی پرورش امیر المومنین علیہ السلام نے کی تھی ۔ تیر اندازی میں ثانی نہیں رکھتے تھے ۔ اور عادت تھی که تیروں پر اپنا نام کندہ کر کے استعمال کرتے تھے ۔ شب عاشور امام علیہ السلام کے ہمراہ تھے اور موقعہ جنگ کا معائنہ کیا ۔ ترکش میں موجود 80 تیروں سے 75 دشمنوں کو قتل کیا اور اسکے بعد تلوار سے 13 کو واصل جہنم کیا ۔ اور پھر کفار کی طرف سے اجتماعی حملے میں شہید ہوئے ۔
برچسب:
نویسنده: آرتمیس نیکنام