
حدیث اسلامقرآن، حديث، تاريخ، كلام، فلسفةامام رضا عليه السلام کو غریب الغرباء کیوں کها جاتا ہے؟امام رضا عليه السلام کو غریب الغرباء کیوں کها جاتا ہے؟بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام کو "امام غریب" یا "غریب الغرباء" اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ آپ اپنے وطن اصلی یعنی مدینہ منورہ سے دور تھے۔ لیکن اگر اس معنی کو دیکھا جائے تو پھر امیر المؤمنین علی علیہ السلام بھی کوفہ میں غریب تھے، اسی طرح امام حسین علیہ السلام، امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام، امام جواد علیہ السلام اور امام عسکریین علیہم...
ادامه مطلب
فضائل امام على نقي عليه السلامہمارے تمام آئمہ علیہم السلام صرف امت کے رہنما اور احکام قرآنی کے بیان کرنے والے نہیں تھے بلکہ شیعہ معارف کے مطابق امام علیہ السلام زمین پر اللہ کا نور، مخلوقات عالم پر اللہ کی حجت کاملہ، حیات کائنات کا محور، خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ فیض، روحانی کمالات کا آئنیہ نور، انسانی فضائل کا اعلٰی نمونہ، تمام اچھائیوں اور نیکیوں کا مجموعہ، علم اور قدرت خدا کا مظہر، بندگان خدا رسیدہ کا اعلٰی شاہکار، ہر طرح کے سہو و نسیاں سے پاک و صاف، رموز زمین، اسرار غیب، اور فرشتگان الٰہی کے راز دان، جن کی ولایت رسول خدا(ص) كے علاوه انبیاء و مرسلین سے بالا تر، جن کی حقیقت ان کے علاوہ کسی اور کے لئے قابل درک نہیں ہے، یہ پروردگار عالم کا خاص عطیہ ہے۔جس سے صرف حضرت محمد و آل محمد ع...
ادامه مطلب
کونڈے وہ برتن ہیں جن میں کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو رکھا جاتا ہے. زمانہ امام جعفر صادق عليه السلام 34 سال پہ محیط ہے. (114ھ تا 148ھ) ان میں معجزات وکرامات اور ارشادات بھی ہیں جنہیں الجرائح و الخرائج نے اور تزکرة المعصومین نے تفصیل سے لکھا ہے. امام عليه السلام علم لدنی کے مالک تھے اور پسندیدہ رب تھے . ایک صحابی نے دعا کے لیے کہا آپ نے الله تعالى سے التجا کر کے مراد پوری کر دی. صحابی نے عقیدت میں نیاز تیار کی کونڈے میں رکھ کر صبح کی نماز کے بعد نمازیوں کو کھلا دی (22 رجب تھی) لوگوں نے دیکھا دیکھی منتیں ماننا شروع کر دیں جن کی پوری ہوگئیں کونڈے بھرنے شروع ہو گے. اور یوں تیرہ سو سال سے یہ رسم چلی آ رہی ہے.عبدالرحمن جامی نے شواہد النبوة میں امام جعفر صادق عليه السلام کا وعدہ پورا کرنا اور...
ادامه مطلب
صلح امام حسن علیہ السلامصُلح امام حسنؑ اس قرارداد کو کہا جاتا ہے جو شیعوں کے دوسرے امام، امام حسنؑ اور معاویۃ بن ابی سفیان کے درمیان سنہ 41 ہجری کو منعقد ہوا۔ یہ صلح نامہ ایک ایسے جنگ کے بعد منعقد ہوا جو معاویہ کی زیادہ خواہی اور اس کی طرف سے امام حسنؑ کی بعنوان خلیفہ مسلمین بیعت سے انکار کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی۔ اس صلح کے مختلف عوامل و اسباب ہیں جن میں سے امام حسنؑ کے بعض کمانڈروں کی خیانت، حفظ مصلحت مسلمین، شیعوں کی جان، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت اور خوارج کی طرف سے اسلام کو نقصان پہچانے کا خطرہ وہ اہم ترین عوامل میں سے ہیں جن کی وجہ سے امام عالی مقام اس صلح نامے پر راضی ہونے پر مجبور ہوئے۔ اس صلح نامے کے مطابق امام حسنؑ نے کئی شرائط کے ساتھ خلافت کو معاویہ کے سپرد کردیا۔ ان شرائط می...
ادامه مطلب
21- زاہر بن عمر الکندی آپ امیر المومنین علیہ السلام کے ایک صحابی عمرو بن الحمق کے ساتھ ہر وقت ہمراہ رہتے تھے آپ نہایت زبردست پہلوان مشہور تھے اور عرب کے لوگ آپ سے متاثرتھے آپ حج کے لیے مکہ پہنچے اور...
ادامه مطلب
31- بشر بن عمر الکندی آپ حضر موت کے رہنے والے تھے اور قبیلہ کندہ کے فرد تھے آپ بھی جنگ اولین میں شہید ہوئے ۔ 32- عبداللہ بن عروہ الغفاری آپ کربلا میں امام علیہ السلام سے آ کر ملے اور جنگ مغلوبہ م...
ادامه مطلب
41- سعید بن عبداللہ الحنفی آپ کوفے کی نامی گرامی اشخاص میں سے تھے ۔ اور میدان کربلا میں بوقت نماز ظہر جب دوران جماعت دشمنوں نے تیر اندازی شروع کی تو آپ امام علیہ السلام کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ایک بھ...
ادامه مطلب
51- انس بن حارث کاهلی آپ کا نام انس بن حارث بن کاہل بن عمر بن صعب بن اسد بن حزیمہ اسدی کاہلی تھا ۔ آپ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے صحابی اور راوی حدیث بھی ہیں ۔ آپ کوفہ سے نکل کے امام علیہ السلا...
ادامه مطلب
61- جنادہ بن کعب الخزرجی آپ قبیلہ خزرج کی یادگار تھے اور مکہ میں امام علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوئے۔ 18 دشمنوں کو قتل کر کے شہید ہوئے ۔ 62- عمر بن جنادۃ انصاری آپ جنادہ بن کعب کے فرزند اور کم عمر تھے...
ادامه مطلب
شُہدائے بنی ہاشم علیہم السلام کارزارِ کربلا میں امام علیہ السلام کے اصحاب باصفاء اور موالیانِ باوفا کی شہادت کے بعد اِمام علیہ السلام کے اعزاء و اقرباء ، برادران اور اولاد نے راہِ اسلام میں عظیم اور ...
ادامه مطلب
اقبال کی شاعری میں کربلا اور امام حسینؑ تحرير: نا معلوم نواسہ رسول امام حسینؑ کی لازوال قربانی اور کربلاکا حق و باطل کا معرکہ تاریخ انسانی کا وہ ناقابل فراموش واقعہ ہے جسے کوئی بھی صاحب شعور انسان نظرانداز نہیں کرسکتا بعض اہل علم کے مطابق شعر اور...
ادامه مطلب
امام كى عصمت پر ايك دليل تحرير: سيد غيور الحسنين محمد بن ابى عمير اور هشام بن حكم دونوں مولا امام صادق عليه السلام كے شاگرد تهے اور مناظره ميں بے مثال تهے. ايك دفعه محمد بن ابى عمير نے هشام بن حكم سے پوچها: تم رافضى امام كو معصوم مانتے هو. كيا اس پر كوئى دليل هے؟ تو هشام بن حكم نے كها: هاں دليل هے. محمد بن ابى عمير نے پوچها: وه دليل كيا هے؟ تو هشام نے كها: امام معصوم هوتا هے چونكه گناه نهيں كرتا اور انسان كے گناه كرنے كي چار وجه هوتى هيں: 1- حرص وطمع و لالچ 2-حسد 3- غضب 4- شهوت اور يه چاروں امام سے منتفى هيں پس ثابت هوا كه امام معصوم هوتا هے. حواله: اقتباس از مجلس مولانا شميم رضوي هن...
ادامه مطلب